- مقطع
- مطلع
- قافیہ
- ردیف
- a
-
غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔غزل کے لغوی معنی عورتوں کی باتیں کرنا / عورتوں سے باتیں کرنا کے ہیں۔
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
غزل کا پہلا شعر مطلع کہلاتا ہے۔غزل کے لغوی معنی عورتوں کی باتیں کرنا / عورتوں سے باتیں کرنا کے ہیں۔