- 310
- 316
- 313
- 320
- c
-
ان 313 نشستوں میں سے 169 مشرقی پاکستان اور 144 مغربی پاکستان کو دی گئیں۔
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر نا اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے (سورہ العمران آیت نمبر 8)
ان 313 نشستوں میں سے 169 مشرقی پاکستان اور 144 مغربی پاکستان کو دی گئیں۔
ہندو مذہب میں مختلف ذات پات کا نظام ہے جس میں برہمن، چھتری، ویش اور شودر ہیں۔
اچھوت یا دِلت کو اس سب سے کم تر سمجھا جاتا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم چرچل نے مارچ 1942 میں سر سٹیفورد کرپس کو ایک مشن پر بر صغیر / ہندوستان بھیجا۔
اس مشن کو بعد میں سرسٹیفورڈ کے نام سے منسلک کر دیا گیا۔
اس مشن کو کرپس مشن کہا جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا فتتاح یکم جولائی 1948 کو بانی پاکستان محمد علی جناح نے خود کیا۔
مسلیمہ کذاب کا اصل نام مسلیمہ بن حبیب تھا۔
یہ وہ پہلا جھوٹا شخص تھا جس نے نبی ﷺ کی زندگی مبارکہ میں ہی نبوت کا دعوہ کیا تھا۔
مسلیمہ کذاب کو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں قتل کر دیا گیا۔
ولید بن عبدالمالک نے 86 ہجری میں شام کے شہر دمشق میں اسلامی دُنیا کا پہلا شفا خانہ قائم کیا۔
دشت تو دشت ہیں ، دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
میثاق مدینہ 1 ہجری میں طے پایا۔
یہودی صدیوں سے مدینہ کی قیادت کرتے آ رہے تھے۔میثاق مدینہ میں نبی ﷺ نے یہودیوں سے اپنی قیادت تسلیم کروائی۔
میثاق مدینہ 53 دفعات پر شامل تھا۔
زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ذکر قرآن مجید کی سور ہ احزاب کی آیت نمبر 37 میں موجود ہے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو نبی ﷺ نے منہ بولا بیٹا کہا۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ غلاموں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے غزوہ موتہ میں شہادت نوش فرمائی۔
بعثت کے 13ہویں سال نبی ﷺ نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی۔
ہجرت کے 6ویں سال صلح حدیبیہ ہوئی۔
ہجرے کے 8ویں سال مکہ فتح ہوا۔