- بیکٹیریا سے
- وائرس سے
- دونوں سے
- ان میں سے کوئی نہی
- B
-
پولیو ایک وائرل بیماری ہے۔
پولیو، ہیپاٹائٹس بی، خسرہ یہ تینوں وائرس سے پھیلتے ہیں۔
Medical MCQs
All Solved Medical related MCQs have uploaded in this section of ETEST Website. All MCQs will help to pass Medical related Exams of All Jobs and Admissions. Visitors should visit ETEST Website regularly for Best Jobs Tests Preparation because ETEST Team updates ETEST Website on daily basis.
آئی ایل آر کا درجہ حرارت دن میں کتنی بار چیک کرنا چاہیئے ؟
- ایک بار
- دو بار
- تین بار
- چار بار
- A
-
ILR stands for Ice Lined Refrigerator
اس ریفریجریٹر کا عموما درجہ حرارت صفر سینٹی گریڈ سے آٹھ سینٹی گریڈ تک رکھا جاتا ہے۔
یہ ایسا ریفریجریٹر ہوتا ہے جو ویکسین کو جماتا نہیں ہے بلکہ صرف ٹھنڈا رکھتا ہے۔
حفاظتی ٹیکہ لگانے کے بعدکن صورتحال میں ویکسینیٹر / محکمہ صحت کے ٹیم سے رابطہ کرنا چاہیئے؟
- بخار 104 فارن ہائیٹ بخار کی صورت میں
- چوبیس گھنٹوں سے زیادہ بچے کے رونے یا چڑ چڑے پن کی صورت
- سوئی لگنے والی جگہ پر سوجن بڑھ جانے کی صورت میں
- اوپر والے تمام
- D
-
ان وجوہات کے علاوہ بچے میں غیر معمولی غنودگی کا مسئلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔
اگر یہ تمام یا اِن میں سے کوئی ایک ردعمل بھی مشاہدے میں آئے تو فورا محکمہ صحت کے کارکن سے رابطہ کریں۔
جن بچوں کی کوئی ایک خوراک بھی رہتی ہو اُسے کیا کہتے ہیں؟
- ڈیفالٹر
- ریفلیکٹر
- مسنگ پرسن
- ان میں سے کوئی نہیں
- A
-
ہر ویکسی نیٹر کو تمام ڈیفالٹر ز کے بارے میں معلومات یاد ہونی چاہیئے۔
کن پیڑ کی کونسی علامات ہوتی ہیں؟
- بخار اور تھکن
- سر درد یا کان میں درد
- گلے یا گردن میں سوجن
- اوپر والے تمام
- D
-
کن پیڑ کو انگریزی میں ممپس / اورینلز کہتے ہیں۔
کن پیڑ بیماری کے علاج میں لاپرواہی برتنے سے گردن توڑ بخار، گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں میں انفیکشن، بہرہ پن اور بانجھ پن جیسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔
حفاظتی ٹیکہ لگوانے کے کتنی دیر تک حفاظتی ٹیکہ مرکز رُکنا چاہیئے؟
- حفاظتی ٹیکہ لگنے کے فورا بعد گھر جا سکتے ہیں
- حفاظتی ٹیکہ لگنے کے بعد 5 سے 10 منٹ رکنا چاہیئے
- حفاظتی ٹیکہ لگنے کےبعد 15 سے 20 منٹ تک رُکنا چاہیئے
- رُکنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے
- C
-
حفاظتی ٹیکہ لگوانے کے بعد آپ متعلقہ مرکز / کلینک میں 15 سے 20 منٹ انتظار کریں ۔
اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر حفاظتی ٹیکہ / ویکسین کے بعد کوئی الرجی یا ری ایکشن کا سامنا ہو تو فوری کا اُسکا حل نکالا جا سکے۔
عموما یہ ہوتا ہے کہ اگر مریض 15 سے 20 منٹ تک تندرست ہے تو اُسے ویکسین / حفاظتی ٹیکہ کے منفی رد عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
حفاظتی ٹیکہ لگانے کے بعد بچے میں کس قسم کا رد عمل ظاہر ہو سکتا ہے؟
- چڑ چڑا پن آسکتا ہے
- معمول سے زیادہ نیند آسکتی ہے
- ہلکا بخار ہو سکتا ہے
- اوپر والے تمام
- D
-
اد رکھیں ریادہ تر بچوں کو یہ تمام علامات محسوس یا ظاہر نہیں ہوتیں۔بچے معمول کے مطابق کھیلتے ہیں۔
بعض اوقات جس جگہ پر سُوئی لگائی جاتی ہے وہاں درد ہوتاہے یا وہ جگہ سُرخ ہو جاتی ہے۔
چند بچوں میں یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں ۔اور یہ رد عمل حفاظتی ٹیکہ کے 12 سے 24 گھنٹے تک ختم ہو جاتا ہے۔
آپ درد کم کرنے یا بخار کیلئے ویکسینیٹر / معالج کے مشورے سے میڈیسن استمعال کر سکتے ہیں۔
حفاظتی ٹیکہ لگانے کے بعد بچے کے جسم میں کیا پیدا ہوتا ہے؟
- متعلقہ بیماری کے جراثیم
- اینٹی باڈیز
- وائرس
- ان میں سے کوئی نہیں
- B
-
حفاظتی ٹیکہ لگانے سے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہیں۔
اور جس بیماری سے متعلقہ یہ حفاظتی ٹیکہ ہوتا ہے اُس بیماری کے جراثیم مستقبل میں اگر جسم پر حملہ آور ہوں تو قوت مدافعت اور اینٹی باڈیز فورا اُنھیں پہچان لیتی ہیں اور اُن جراثیم کو مار دیتی ہیں۔
حفاظتی ٹیکہ کس طرح دیا جاتا ہے؟
- منہ کے ذریعے
- ناک کے ذریعے
- سوئی کی مدد سے
- اوپر والے تمام
- D
-
زیادہ تر حفاظتی ٹیکے بچے کے بازو کے اُوپر والے حصہ میں یا ٹانگ کے اوپر والے حصے (ران) پر سُوئی کی مدد سے لگائے جاتے ہیں۔
چند حفاظتی دوائیاں / ٹیکے بچوں کو منہ کے ذریعے پلائے جاتے ہیں۔
اورچند حفاظتی دوائیاں / ٹیکے بچوں کو ناک میں سپرے کے ذریعے بھی دیئے جاتے ہیں۔
حفاظتی ٹیکہ کیسے بنایا جاتا ہے؟
- متعلقہ بیماری کے جراثیم سے
- کسی دوسری بیماری کے جراثیم سے
- اینٹی بائیٹک میڈیسن سے
- ان میں سے کوئی نہیں
- A
-
حفاظتی ٹیکہ مردہ یا کمزور جراثیم کی ایک چھوٹی سی مقدار سے بنایا جاتا ہے۔
ان جراثیموں کی مدد سے دفاعی نظام بیماریوں کے خلاف تحفظ کرنا سیکھتا ہے۔
حفاظتی ٹیکہ آپ کے بچے کو اصل بیماری سے بچانے کا ایک محفوظ ترین طریقہ ہے۔