Most Important & Most Repeated MCQs

  • Soviet Union
  • United Kingdom
  • Germany
  • USA
  • A
  • Sputnic-1 was artificial satellite/
    The diameter of Sputnic-1 was 58 cm.
    It has an antenna of 2.4-2.9 meters long.
    It was a Basket Ball size manmade satellite.
    It sent a radio signal back to earth after 3 weeks before zinc batteries ran out.

  • Beijing
  • Shenzhen
  • Shanghai
  • Tianjin
  • A
  • 60 فیصد
  • 65 فیصد
  • 70 فیصد
  • 75 فیصد
  • B
  • Total Marks= 850
    Obtained Marks=557
    Percentage=557/850*100=65.53%

  • ڈیفالٹر
  • ریفلیکٹر
  • مسنگ پرسن
  • ان میں سے کوئی نہیں
  • A
  • ہر ویکسی نیٹر کو تمام ڈیفالٹر ز کے بارے میں معلومات یاد ہونی چاہیئے۔

  • بخار اور تھکن
  • سر درد یا کان میں درد
  • گلے یا گردن میں سوجن
  • اوپر والے تمام
  • D
  • کن پیڑ کو انگریزی میں ممپس / اورینلز کہتے ہیں۔
    کن پیڑ بیماری کے علاج میں لاپرواہی برتنے سے گردن توڑ بخار، گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں میں انفیکشن، بہرہ پن اور بانجھ پن جیسی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

  • حفاظتی ٹیکہ لگنے کے فورا بعد گھر جا سکتے ہیں
  • حفاظتی ٹیکہ لگنے کے بعد 5 سے 10 منٹ رکنا چاہیئے
  • حفاظتی ٹیکہ لگنے کےبعد 15 سے 20 منٹ تک رُکنا چاہیئے
  • رُکنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے
  • C
  • حفاظتی ٹیکہ لگوانے کے بعد آپ متعلقہ مرکز / کلینک میں 15 سے 20 منٹ انتظار کریں ۔
    اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگر حفاظتی ٹیکہ / ویکسین کے بعد کوئی الرجی یا ری ایکشن کا سامنا ہو تو فوری کا اُسکا حل نکالا جا سکے۔
    عموما یہ ہوتا ہے کہ اگر مریض 15 سے 20 منٹ تک تندرست ہے تو اُسے ویکسین / حفاظتی ٹیکہ کے منفی رد عمل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

  • چڑ چڑا پن آسکتا ہے
  • معمول سے زیادہ نیند آسکتی ہے
  • ہلکا بخار ہو سکتا ہے
  • اوپر والے تمام
  • D
  • اد رکھیں ریادہ تر بچوں کو یہ تمام علامات محسوس یا ظاہر نہیں ہوتیں۔بچے معمول کے مطابق کھیلتے ہیں۔
    بعض اوقات جس جگہ پر سُوئی لگائی جاتی ہے وہاں درد ہوتاہے یا وہ جگہ سُرخ ہو جاتی ہے۔
    چند بچوں میں یہ علامات ظاہر ہو سکتی ہیں ۔اور یہ رد عمل حفاظتی ٹیکہ کے 12 سے 24 گھنٹے تک ختم ہو جاتا ہے۔
    آپ درد کم کرنے یا بخار کیلئے ویکسینیٹر / معالج کے مشورے سے میڈیسن استمعال کر سکتے ہیں۔

  • متعلقہ بیماری کے جراثیم
  • اینٹی باڈیز
  • وائرس
  • ان میں سے کوئی نہیں
  • B
  • حفاظتی ٹیکہ لگانے سے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہیں۔
    اور جس بیماری سے متعلقہ یہ حفاظتی ٹیکہ ہوتا ہے اُس بیماری کے جراثیم مستقبل میں اگر جسم پر حملہ آور ہوں تو قوت مدافعت اور اینٹی باڈیز فورا اُنھیں پہچان لیتی ہیں اور اُن جراثیم کو مار دیتی ہیں۔

  • منہ کے ذریعے
  • ناک کے ذریعے
  • سوئی کی مدد سے
  • اوپر والے تمام
  • D
  • زیادہ تر حفاظتی ٹیکے بچے کے بازو کے اُوپر والے حصہ میں یا ٹانگ کے اوپر والے حصے (ران) پر سُوئی کی مدد سے لگائے جاتے ہیں۔
    چند حفاظتی دوائیاں / ٹیکے بچوں کو منہ کے ذریعے پلائے جاتے ہیں۔
    اورچند حفاظتی دوائیاں / ٹیکے بچوں کو ناک میں سپرے کے ذریعے بھی دیئے جاتے ہیں۔

  • متعلقہ بیماری کے جراثیم سے
  • کسی دوسری بیماری کے جراثیم سے
  • اینٹی بائیٹک میڈیسن سے
  • ان میں سے کوئی نہیں
  • A
  • حفاظتی ٹیکہ مردہ یا کمزور جراثیم کی ایک چھوٹی سی مقدار سے بنایا جاتا ہے۔
    ان جراثیموں کی مدد سے دفاعی نظام بیماریوں کے خلاف تحفظ کرنا سیکھتا ہے۔
    حفاظتی ٹیکہ آپ کے بچے کو اصل بیماری سے بچانے کا ایک محفوظ ترین طریقہ ہے۔